24 جولائی 2012 - 19:30

شام پر حملے کے لئے اسرائیل کی تیاری / قطر کی طرف سے اسرائیل کو گرین سگنل / شام کا انتباہ: بیرونی جارحین کے خلاف غیر روایتی ہتھیار استعمال کریں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست کے وزیر جنگ ایہود بارک نے کہا کہ اسرائیل شام پر ممکنہ حملے کی تیاری کررہا ہے اور یہ ایسی صورت میں ہوگا کہ شام اپنے میزائیل یا کیمیاوی ہتھیار حزب اللہ کے حوالے کرے۔ بارک نے کہا کہ اس نے اپنی فوج کو ہدایت کی ہے کہ شام کی صورت حال کی نگرانی کے لئے انٹیلی جنس کاروائیوں میں اضافہ کرے اور اپنے آپ کو ـ ضرورت پڑنے پر ـ فوجی کاروائی کے لئے تیار کرے۔ بارک نے کہا: ممکن ہے کہ شام اپنا اعلی درجے کا میزائل سسٹم، یا طیارہ شکن میزائل یا زمین سے زمین پر مار کرنے والے بڑے میزائل یا پھر کیمیاوی ہتھیار لبنان منتقل کرکے حزب اللہ کے حوالے کردے۔ یاد رہے کہ غاصب یہودی ریاست نے شامیوں کا داخلہ روکنے کے بہانے مقبوضہ جولان میں اپنی فوجی نفری میں اضافہ کیا ہے۔ــ شام پر اسرائیلی حملہ، قطر کا گرین سگنلشام کے کیمیاوی ہتھیاروں سے تشویش کے بہانے اسرائیلی وزیر جنگ کی طرف سے شام پر حملے کا اعلان قطر اور شام کے مخالفین کے گرین سگنل کا نتیجہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک عراقی محقق "جاسم الموسوی" نے کہا ہے عرب ممالک میں واحد مقتدر فوج اس وقت شام کے پاس ہے اور صہیونی ریاست عرب حکمرانوں اور مغربی ممالک کی طرف سے شام کی مخالفت کا فائدہ اٹھا کر اس فوج کو نیست و نابود کرنے کے سپنے دیکھنے لگا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے مخالفین نے مختلف اجلاسوں میں اسرائیل کو گرین سگنل دیا ہے اور کہا ہے کہ شام کی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی حکومت اسرائیل کے تابع ہوگی اور اسرائیل کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ قطر کے امیر حمد بن خلیفہ اس سلسلے میں حکومت شام کے مخالفین کی جانب سے دلالی کا کردار ادا کررہے ہیں اور ان کی ترجمانی کررہے ہیں اور اسرائیل سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ بھی حکومت شام کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے اور شام کے مخالفین کی مدد کرے۔ الموسوی نے کہا: یہودی ریاست سمجھ رہی ہے کہ گویا موجودہ صورت حال اور حکومت شام کے خلاف لڑی جانے والی گھسم گھسا کی جنگ (WAR OF ATTRITION) سے اپنے بعض اہداف حاصل کرسکی ہے اور یہ ریاست گویا مطمئن ہوچکی ہے کہ شامی فوج کی حالت اتنی بگڑ چکی ہے کہ اب اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور شام کے اندر سرگرم عمل دہشت گردوں کی براہ راست مدد کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ یہ دہشت گرد شام کی فوج کو توڑنے اور ملک میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج علاقے کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں: ایک راستہ یہ ہے کہ شام پر حملہ کیا جائے اور درحقیقت ایسی جنگ کا آغاز کیا جائے جس کا آغاز شام سے ہوگا اور پھر یہ پورے خطے میں پھیل جائے گی اور اس کا انجام معلوم نہ ہوگا اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ تمام ممالک مل کر شام کا بحران منطقی انداز سے حل کریں اور سیاسی منطق کی بنا پر شام میں حکمرانوں کے تعین اور قوم کی قسمت کا فیصلہ شامی عوام کے سپرد کیا جائے اور بیرونی طاقتیں مداخلت نہ کریں۔ــ بیرونی جارحین کو شام کا دو ٹوک انتباہ؛ غیر روایتی ہتھیار استعمال کریں گےشام کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر بیرونی جارحین نے شام پر حملہ کرنے کی حماقت کی تو انہيں شام کے غیر روایتی ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اطلاعات کے مطابق شامی وزارت خارجہ کے ترجمان "جہاد المقدسی" نے پریس بریفنگ میں خبردار کیا ہے کہ شام بیرونی جارحین کی جارحیت کی صورت میں ہر قیمت پر ملکی سالمیت کا دفاع کرے گا اور دشمنوں کو سبق سکھانے کے لئے غیر روایتی ہتھیار استعمال کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ حکومت شام موجودہ بحران میں کسی صورت میں بھی کیمیاوی اور جراثیمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ المقدسی نے قطر کے دارالحکومت میں عرب لیگ کے اجلاس اور اس کے اعلامئے کو اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت قرار دیا اور کہا: شام میں اقوام متحدہ کے نگرانوں کے مشن اور تعداد کا تعین اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اختیار میں ہے عرب وزرائے خارجہ کو ہرگز یہ حق نہيں پہنچتا کہ کوفی عنان کے مشن میں تبدیلی کے بارے میں اظہار خیال کریں۔المقدسی نے کہا کہ شام اپنا دفاع کررہے ہے اور اس کو امریکہ کی سرکردگی میں سیاسی اور تشہیری یلغار کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا: شامی افواج اپنے وطن کا دفاع کررہی ہیں اور دمشق میں عوام کی صورت حال اطمینان بخش ہے اور شام کی موجودہ صورت حال ماضی سے کہیں بہتر ہے۔

جاری ہے